ورلڈ ٹوور کی بجائے

اس بار میں نے تمہارے جسم کی سیر کا سوچا ہے
میں دریافت کروں گا وہ حصے
جنہیں شاعری کی زبان میں ابھی تک بیاں نہیں کِیا گیا
تم پوچھتی ہو کہ
میں کیا سوچتا ہوں تمھارے بارے میں
میں ہر لمحہ گزرنے کے بعد
تخیل میں تمہیں ایک بوسہ دیتا ہوں
تمہارا سراپا
حقیقت سے پرے کی کوئی شے ہے
جیسے
جنت سے آئی کوئی حور
یا پھر
میری کوئی خوبصورت خواہش